Parveen Shakir on chaman mein kal jo phool the, woh ab rang-o-boo chhor gaye
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے جسم کو خبر نہیں، وہ لوگ کہاں چھوڑ گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے جسم کو خبر نہیں، وہ لوگ کہاں چھوڑ گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے دل کے شکوۂِ گل، وہ بھی گلشن چھوڑ گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب ہوا میں ہیں کوئی یاد کرے گا، کس کی یہ گلابتنی ** Translation Chaman mein kal jo phool thay, woh ab hawa mein hain Koi yaad karega, kis ki yeh gulabtanī
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے دل کے شکوہ کو بھی، لوگ تنہا چھوڑ گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے دل کے شکوہ کو بھی، لوگ خاموش ہو گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے جسم کو خبر نہیں، وہ لوگ کہاں چھوڑ گئے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑے مرے دل کا شیشہ ٹوٹا، وہ درد بھی چھوڑے Translation
چمن میں کل جو پھول تھے، وہ اب رنگ و بو چھوڑ گئے مرے دل کے شکوہ کو بھی، لوگ خاموش ہو کر چھوڑ گئے Translation